پناہ

یہ کیا تماشا ہے
کس کے کہنے پہ
اتنی بنجر زمیں کے
پہلو میں اپنا دریا
بنا رہے ہو
سنو یہاں کا اصوال
یہ ہے کہ
جب بھی
اطراف میں کوئی گھر
زمیں کو بوسہ نہ دے
تو اکثر یہ
خستہ بستی
پھر احتجاج
نمی کو سیلن بنا کے
دریاکو کوستی ہے
سو مت بناو
اور اک بہاو
جو راہ بھولے
گزر رہا ہے
اسے کنارے نہ دو
کہ اس سے
جو ذات بن کر ابھر رہی ہے
وہ درحقیقت وہی نمی ہے
جسے یہ بستی
پناہ دیتی ہے
اوراس کی مدد
سے نالا فگار
دیوار ودر کی سیلن
زمیں سے نکلے
ہر ایک خستہ مکاں
کا الزام ایک دریا
پہ ڈالتی ہے
جو بدعاوں سے رک گیا تھا
اور اس بہاو کا ذکر
اب تک انہیں مکانوں میں ہورہا ہے
جہاں وہ کردار رہ رہے ہیں
جو اس کہانی کے لکھنے والوں
کے ساتھ مل کر
زمیں کے پہلو میں
اپنادریابنا رہے تھے

عمران سیفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے