چراغ دن میں جلا رکھا ہے

چراغ دن میں جلا رکھا ہے
یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے

خُدا کا بننے کا حکم تھا پر
خُدا کو اپنا بنا رکھا ہے

ابھی تو جاری ہے جنگ اس سے
کُمک میں کس نےعصا رکھا ہے

چراغ ڈرتا نہیں ہوا سے
بس احتیاطا بُجھا رکھا ہے

تُو کُچھ بھی کہہ لے یہی کہوں گا
اب ایسی باتوں میں کیا رکھا ہے

عمران سیفی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا