سوتے رہنا صرف بہانہ ہوتا ہے

سوتے رہنا صرف بہانہ ہوتا ہے
مقصد اس سے ملنے جانا ہوتا ہے

ایک جگہ پر کام ملا ہے اور وہاں
آوازوں کا شور بنانا ہوتا ہے

مجھکو بھی اس شام میں میرا حصہ دو
میں نے بھی تو دیپ جلانا ہوتا ہے

جھگڑا میرا اور مری قسمت کاہے
اس نے تو بس بیچ میں آنا ہوتا ہے

ہم ایسوں کی عمر گزرتی جاتی ہے
جیسے جیسے زخم پُرانا ہوتا ہے

عمران سیفی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل