پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا
گئے لمحوں کا غم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

سر تسلیمِ خم کر کے بہت کچھ مل تو سکتا ہے
سر تسلیمِ خم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

محبت ہو تو بے حد ہو، جو نفرت ہو تو بے پایاں
کوئی بھی کام کم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

میں دہشت گرد ہوتا تو اسے برباد کر دیتا
مگر اس پر ستم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

میں اک اک بوند کے پیچھے ، نہ بھاگا ہوں نہ بھاگوں گا
سمندر یوں بہم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

عدیم انساں کی آنکھوں میں تو دنیا دیکھ سکتا ہوں
سبو کو جامِ جم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

عدیم ہاشمی 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے