کہا، ساتھی کوئی دکھ درد کا تیار کرنا ہے

کہا، ساتھی کوئی دکھ درد کا تیار کرنا ہے
جواب آیا کہ یہ دریا اکیلے پار کرنا ہے

کہا، ہر راستہ بخشا ناہموار کیوں مجھ کو
جواب آیا کہ ہر رستہ تجھے ہموار کرنا ہے

کہا ، کیوں سامنے چمکا دیا اتنا بڑا سورج
جواب آیا ہمیں سایہ پسِ دیوار کرنا ہے

کہا، لفظوں سے پھولوں کی مہک آنے لگی کیسے؟
جواب آیا محبت کا تجھے اظہار کرنا ہے

کہا، مجھ کو بنایا ہے تو پھر یہ دوسرے کیوں ہیں؟
جواب آیا کہ تجھ کو دوسروں سے پیار کرنا ہے

کہا، میں لاڈلا تیرا ہوں میں مٹی میں کیوں اتروں
جواب آیا کہ سب کو یہ سمندر پار کرنا ہے

عدیم ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے