پجیرو بھی کھڑی ہے اب تو ان کی کار کے پیچھے

پجیرو بھی کھڑی ہے اب تو ان کی کار کے پیچھے

عظیم الشان بنگلہ بھی ہے سبزہ زار کے پیچھے

کہاں جچتی ہے دیسی گھاس اب گھوڑوں کی نظروں میں

کہ سر پٹ‌ دوڑتے پھرتے ہیں وہ معیار کے پیچھے

عجب دیوار اک دیکھی ہے میں نے آج رستے میں

نہ کچھ دیوار کے آگے ، نہ کچھ دیوار کے پیچھے

تعاقب یا پولِس کرتی ہے یا از راہِ مجبوری

کوئی گلزار پھرتا ہے کسی گلنار کے پیچھے

سرہانے سے یہ کیوں اٹھے ، وہ دنیا سے نہیں اٹھتا

مسیحا ہاتھ دھو کر پڑ‌گیا ہے بیمار کے پیچھے

ہوا خواہان سرکاری تو بس پھرتے ہی رہتے ہیں

کوئی سرکار کے اگے کوئی سرکار کے پیچھے

بڑے نمناک ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے

کوئی دیوار گریہ ہےترے اشعار کے پیچھے

انور مسعود

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے