اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اے چاند یہاں نہ نکلا کر
بے نام سے سپنے دیکھا کر

یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں

نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں

ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں

کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

حبیب جالب

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے