مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے

مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
سفاک کر کے رکھ دیا صدمات نے مجھے

پتھر سا ہو گیا تھا میں کچھ بھی نہ کہہ سکا
چُپ سی لگا دی تیرے سوالات نے مجھے

اب روح بھی بھٹکتی ہے تیری تلاش میں
دِن نے سکوں دیا ہے نہ ہی رات نے مجھے

احساس چھین لے گیامجھ سے مری ہنسی
پتھر بنا دیا مرے جذبات نے مجھے

جی چاہتا ہے سانس سے بھی رشتہ توڑ دوں
وہ دکھ دیا ہے اب کے ملاقات نے مجھے

میں تھک گیا ہوں شاذؔ مگر کس سے کہوں
بھٹکا دیا ہے گردشِ حالات نے مجھے

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی