جو جہاں نہیں میرا اُس جہاں میں رہنا ہے

جو جہاں نہیں میرا اُس جہاں میں رہنا ہے
میں بھٹکتا پنچھی ہوں آسماں میں رہنا ہے

یوں لگا سمندر بھی جیسے اک مسافر ہو
اور اِس کو بے منزل کارواں میں رہنا ہے

دل کو خالی رکھا ہے اور سوچتا ہوں میں
کاش مجھ سے کہہ دے وہ اِ مکاں میں رہنا ہے

مِٹ کے نقش ہونا ہے دوسروں کے ذہنوں پر
ہو کے بے نشاں مجھ کو ہر نشاں میں رہنا ہے

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی