مجھے بھی علم نہیں تھا میں شعر کہتا تھا

مجھے بھی علم نہیں تھا میں شعر کہتا تھا
تمہیں یہ کس نے بتایا میں شعر کہتا تھا ؟

یہ پھول ، پیڑ ، پرندے ، دیے ، گواہی دیں
تو پھر یقین کروں گا ، میں شعر کہتا تھا

تو کیا وہ سارے صحیفے مجھی پہ اترے تھے ؟
وہ میری نظمیں تھیں ، آیا ، میں شعر کہتا تھا ؟

بہت پرانی سی اک ڈائری جو ہاتھ لگی
میں دنگ رہ گیا ، گویا ، میں شعر کہتا تھا

ہنسی اڑاتے رہے یار ذکر ہونے پر
لگا ہوا تھا تماشا ، میں شعر کہتا تھا

ہرے حروف بہت مہربان تھے مجھ پر
سنو گے میرا فسانہ ، میں شعر کہتا تھا

ضیائے حرفِ تمنا سے یہ کھلا مجھ پر
ترے سبب تھا اجالا ، میں شعر کہتا تھا

بہنام احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان