اپنے بارے میں جانتی ہے وہ

اپنے بارے میں جانتی ہے وہ
ایک شاعر کی ڈائری ہے وہ

رسمی دنیا اسے پسند نہیں
صبح مرضی سے جاگتی ہے وہ

آیئنے انتظار کرتے ہیں
اس محبت سے دیکھتی ہے وہ

کتنا مشکل ہے یہ بتا پانا
کتنا آسان سوچتی ہے وہ

اب نجانے کہاں پہ ہوتی ہے
کن چراغوں کی روشنی ہے وہ

بہنام احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان