باغ میں تُو اگر نہیں آتا

باغ میں تُو اگر نہیں آتا
اِس برس بھی ثمر نہیں آتا

میں تُجھے صاف دیکھ سکتا ہوں
میں تُجھے کیوں نظر نہیں آتا ؟

میرے ہاتھوں میں صرف رستہ ہے
اِن لکیروں میں گھر نہیں آتا

دوست! آرام سے رہو، کوئی
اجنبی شخص اِدھر نہیں آتا

روشنی ، بارہا نہیں ملتی
وقت ، بارِ دگر نہیں آتا

ایسا کیا بھید ہے کہانی میں ؟
کیوں کوئی لوٹ کر نہیں آتا ؟

بہنام احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان