مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے

مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے
ترے دریا دریا روانیوں سے بھرے ہوئے

جہاں بستی والوں نے روشنی کی دعائیں کیں
وہاں سب چراغ تھے پانیوں سے بھرے ہوئے

تری آنکھ بدلی تو میں بھی چھوڑ کے آگیا
کئی باغ رات کی رانیوں سے بھرے ہوئے۔

مری ہجرتوں پہ سوال کرتے ہیں روز و شب
مرے پاںوں نقل مکانیوں سے بھرے ہوئے

تری دید کرنے کو دیکھتا ہوں میں گاہ گاہ
یہ صحیفے تیری نشانیوں سے بھرے ہوئے

مرے بچپنے کی شرارتوں کو بھی کھا گئے
یہ نصاب جھوٹی کہانیوں سے بھرے ہوئے

صابر رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے