میرے مولا صدا سن لے

بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو
بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے

طارق اقبال حاوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا