غنچہ لفظوں کا

غنچہ لفظوں کا

بکھرے لفظوں کو جمع کرنے نکلی
اردگرد مرے اوراق زندگی کے
بڑھے طوفان نے بکھیرے وہ اوراق
سنبھل سنبھل کر جمع کر نا ہیں
مرا اب جنون سبھی چلاتے رہتے
یہ کیسی دیوانگی تیری
کیسے کہوں زندگی تھی ان لفظوں میں
کیسے سمجھاؤں لفظوں کا متن
ؔمل جاے اوراق سمیٹوںان لفظوں کو
دیکھو پڑھوں وہی لفظوں کا مجموعہ
اک اک حروف کتنا قیمتی تم کیا جانو
مرا ریاض وہ صبر مرے لفظوں کا
خدیجہ مل جاے گا غنچہ لفظوں کا

خدیجہ آغا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اگست 18, 2020 - 4:37 شام
بہت عمدہ و بیمثال تخلیق
Add Comment