میرے لفظوں میں جہاں لطف و معانی آئے

میرے لفظوں میں جہاں لطف و معانی آئے
شکر کرنے کو کسی آنکھ سے پانی آئے

میں نے دیوار پہ یادوں کے دیے رکھے ہیں
اُس سے کہہ دو کہ ہواؤں کی زبانی آئے

مجھ کو رکھا گیا آزاد فضاؤں سے الگ
صرف چاہا تھا کہ زنجیر بنانی آئے

میں تمنا کے سرابوں سے گزر آیا ہوں
جس کو سننا ہے مری دشت کہانی، آئے

مبشر سعید

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان