وہ مصور کے بس کا کام نہیں

وہ مصور کے بس کا کام نہیں
جو بناتی ہے شاعری تصویر

اپنا اپنا وہ ہاتھ لہرائے
جس نے دیکھی ہو بولتی تصویر

بات ہوتی ہے ساری باطن کی
مت دکھاؤ یہ ظاہری تصویر

آپ اپنی مثال ہوتی ہے
اَن کہی بات، اَن دِکھی تصویر

مرنے والوں کو آگہی کب ہے
جو رُلاتی ہے آخری تصویر

تو ہے یکتا مزاج مِیں اپنے
تو مصور کی ایک ہی تصویر

مبشر سعید

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی