مرے خیال سے وہ شخص

مرے خیال سے وہ شخص یوں پھسل رہا تھا
لگا کہ سات جہانوں کا دل نکل رہا تھا

ترے خیال نے آ کر اسے سہارا دیا
چراغ رات کی تاریکیوں میں ڈھل رہا تھا

جسے یہ ہاتھ تھمایا تھا کچھ مدد کے لیے
نظر پڑی تو وہ بازو مرا نگل رہا تھا

مجھے لگا کہ وہ لوٹ آیا ہے مری جانب
مگر وہ آستیں میں کینچلی بدل رہا تھا

نبیل حاجب

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا