مرا باطن مجھے ہر پل نئی دنیا دکھاتا ہے

مرا باطن مجھے ہر پل نئی دنیا دکھاتا ہے

کسی نادیدہ منزل کا کوئی رستا دکھاتا ہے

خدا بھی زندگی دیتا ہے بس اک رات کی ہم کو

اسی اک رات میں لیکن خدا کیا کیا دکھاتا ہے

ذرا تم دیس کے اس رہنما کے کام تو دیکھو

شجر کو کاٹتا ہے خواب سائے کا دکھاتا ہے

بہت سی خوبیاں ہیں آئنے میں مانتا ہوں میں

مگر اک عیب ہے کمبخت میں چہرا دکھاتا ہے

اس آشوب زمانہ کے لئے میں کیا کہوں تیمورؔ

کہ ہر بکھرا ہوا خود کو یہاں سمٹا دکھاتا ہے

تیمور حسن تیمور

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے