ایک منزل ہے ایک جادہ ہے

ایک منزل ہے ایک جادہ ہے

زندگی میری کتنی سادہ ہے

تو مجھے اپنا ایک پل دے گا

یہ کرم مجھ پہ کچھ زیادہ ہے

جو رکے ہیں سوار ہیں سارے

چلنے والا تو پا پیادہ ہے

صدق دل سے پکارنا مجھ کو

لوٹ آؤں گا میرا وعدہ ہے

پھر جو کرنے لگا ہے تو وعدہ

کیا مکرنے کا پھر ارادہ ہے

ظرف دنیا جو تنگ ہے تیمورؔ

تیرا دل بھی کہاں کشادہ ہے

تیمور حسن تیمور 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا