میں اپنے جد کے غلاموں کی پیروی کروں گا

میں اپنے جد کے غلاموں کی پیروی کروں گا

زمانہ چهوڑ کے حق کی مجاوری کروں گا

یہ تیرگی سے مری جنگ دائمی ہے میاں

چراغ زاد ہوں ظاہر ہے روشنی کروں گا

ہر ایک رنج سمجھتے ہیں بار ِ ہجرت کا

میں اس لئے بھی پرندوں سے دوستی کروں گا

تم اپنے ہونٹ سجانا گلوں کی لالی سے

میں اپنی آنکھ گلابوں سے شبنمی کروں گا

یہ جتنے لوگ بھی مہر و وفا کے داعی ہیں

تم انکی فوج بناو میں رہبری کروں گا

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان