عداوت کی نشانی چل رہی ہے

عداوت کی نشانی چل رہی ہے
ابھی تک بد گمانی چل رہی ہے

ترے ماتم پہ ہی موقوف کب تهی
ہماری نوحہ خوانی چل رہی ہے

دعا دیتے ہیں، قسمت بانٹتے ہیں
سخاوت خاندانی چل رہی ہے

خوشی کی فصل ہم نے کاٹ لی اب
غموں کی باغبانی چل رہی ہے

اسد کے گھر کا وہ پوچھیں تو کہنا
ابهی تک لامکانی چل رہی ہے

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان