میگها رت کی رات، خموشی

میگها رت کی رات، خموشی

میں، دلبر، جذبات، خموشی

بن سجنا او چرخے والی

شام سویرے کات خموشی

غم کا آہو چیخ رہا ہو

ایسے میں سوغات خموشی

جتنے بھی بہتان لگا لے

مجھ برہن کی ذات خموشی

چپ رہنا ولیوں کا شیوہ

سب سے اچھی بات خموشی

میں ایسا گلشن ہوں جس میں

ہر غنچہ ہر پات خموشی

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے