دلوں کو توڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

دلوں کو توڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

گهڑے کو پھوڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

جو بن پڑا تو محبت سے رام کر لیں گے

عدو کو چھوڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

لہو نہا کے بتائیں گے نسبتیں اپنی

کہ رن سے دوڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

سخن کی مے کو اگر چھوڑ بھی دیا اک دن

سبو کو توڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

ہمیں بھی علم ہے صحرا کی وحشتوں کا مگر

مہار موڑنے والے تو خیر ہم بھی نہیں

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان