دریدہ تن ہی رہی جانب_رفو نہ گئی

دریدہ تن ہی رہی جانب_رفو نہ گئی

خوشا نصیب فقیری کی آبرو نہ گئی

ہے مثلِ بادہ کشی آگہی کی عادت بھی

سو ایک بار پڑی اور پھر کبھو نہ گئی

بہت خوشی کہ جنوں کی ادا ہمیں پہ گئی

ذرا سا رنج کہ یہ ہم پہ ہو بہ ہو نہ گئی

تمہاری یاد بھی دل کے خلا کو بھر نہ سکی

یہ روشنی بھی مرے دل میں چار سو نہ گئی

ہمیں تو اشک فشانی نے فائدہ نہ دیا

تمہارے دل کے نگر تک یہ آب جو نہ گئی

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان