مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام
نورِ رُخِ ہدیٰ ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

میدانِ کارزار میں دیکھا ہے دہر نے
طاقت خدا کی پا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام
آلِ نبیؐ سے پیار ہی ایماں کی جان ہے
حق کا پتا رہا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

اسوہ علیؑ کا تھام کے مومن سنور گئے
نورِ صفا رہا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

علمِ نبیؐ کا شہر تو وہ ذاتِ پاک ہے
بابِ درِ عطا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

حق کی زباں ہے، دستِ خدا ہے، امام ہے
رہبر، مرا، ترا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

باطل کے کفر و ظلم کو جس نے مٹا دیا
حق کی صدا رہا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

تلوار جس کی فتح کا پیغام بن گئی
عاجزؔ وہ با صفا ہے علیؑ مرتضیٰ کا نام

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا