ذکر خدا کے بن ہے مری بندگی عبث

ذکر خدا کے بن ہے مری بندگی عبث
ہے بندگی عبث تو سمجھ زندگی عبث

جس کی عطا سے کِھلتی ہے گلزارِ کائنات
اُس کے بغیر پھول کی ہے تازگی عبث

روشن ہے جس کے نور سے مہر و مہِ تمام
اس کی ضیا کے سامنے یہ تیرگی عبث

تھاما نہ گر یقین سے دامن الٰہ کا
پھر کائناتِ دہر کی یہ خوارگی عبث

آئے نہ جس میں حمدِ خدا کا کوئی بیاں
سازِ نفس کی ساری ہے وہ نغمگی عبث

جس کو نہ تیری یاد کی خوشبو ملی کہیں
اس رہروِ حیات کی سب ماندگی عبث

"عاجز” وہ ذاتِ پاک ہے خالقِ ہے دو جہاں
اُس کے سوا یہ دعویِٰ فرزانگی عبث

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر