مزاج موسموں کے جھیلنے کی عادت ہے

مزاج موسموں کے جھیلنے کی عادت ہے
کہ حبس کی نہیں اسکو کھلے کی عادت ہے

میں مشکلوں میں اسی در کو کھٹکھٹاتی ہوں
مجھے علی سے مدد مانگنے کی عادت ہے

یہ اختصار، خلاصے بیان کیسے کریں
خموشیوں کو بہت بولنے کی عادت ہے

وہ کہہ رہا تھا کہ مصروف ہو گیا ہے مگر
میں جانتی ہوں اسے بھولنے کی عادت ہے

زمیں پہ جابجا اکثر دکھائی دیتا ہے
جسے فلک سے زمیں دیکھنے کی عادت ہے

وہ بھیگی سڑکوں پہ شب بھر ٹہلتا رہتا ہے
مجھے بھی رات گئے جاگنے کی عادت ہے

شہلا خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے