جو مل نہیں سکا

جو مل نہیں سکا مجھے، میرا نہیں ہوا؟
یہ تو کسی کتاب میں لکھا نہیں ہوا

دونوں نے خواب دیکھ کے نیندیں اجاڑ لیں
دونوں نے جیسا سوچا تھا ویسا نہیں ہوا

گو مطمئن تھے ہم تو جدائی کے بعد بھی
بس درد چیخنے لگا "اچھا نہیں ہوا”

اس درجہ بے یقینی تھی اپنے گمان پر
آہٹ پہ چاپ کا ہمیں دھوکہ نہیں ہوا

کچے گھڑے ہمارے سلامت رہیں سدا
چڑھتی ندی نے راستہ روکا نہیں ہوا

شہلا خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا