مائل بہ کرم ہوتا ہے افلاک پہ اب چاک

مائل بہ کرم ہوتا ہے افلاک پہ اب چاک
کاسہ مرا ٹوٹا ہے تو دامانِ طلب چاک

دیوارِ حرم شق ہوئی آہٹ سے کسی کی
کرتا ہے کلیجے کو ترے ماہِ رجب چاک

اک لشکری لشکر کا جگر چیر کے گزرا
مسکان سے کرتا ہوا دیوانِ طرب چاک

اے روزنِ خورشید کواڑوں کو ذرا کھول
پہنچا ہوں یہاں کرتے ہوئے پردہ ءِ شب چاک

اظہار کی شب بولنا آیا ہے تو مت روک
صدیوں کی ریاضت میں ہوئے ہیں مرے لب چاک

ہم اپنے طوافوں میں ہیں مصروف صدی سے
دھمال میں اپنا بھی ہے یوں نام و نسب چاک

کچھ لوگ مری پشت پہ کھاتے ہیں مرا گوشت
کرتے ہیں وہ ابدال کے کرتے کا عقب چاک

عامر ابدال

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا