فلک فلک وہ تخیل غزل غزل یہ زمین

فلک فلک وہ تخیل غزل غزل یہ زمین
بس اک حنائی ہتھیلی پہ ہے سپھل یہ زمین

جمود حشر کا زینہ ہے ، والہانہ چلو
دعا کرو نہ رکے کاش ایک پل یہ زمین

یہ جھیل جھیل عناصر یہ لفظ لفظ خیال
اگاتی جاتی ہے میرے لیے کنول یہ زمین

یہ شامیانہ فلک کا فضا کا نمگیرہ
بچھا ہے تا بہ ابد خیمہ ءِ ازل یہ زمین

چھپا رہا ہوں میں دفتر مزار کے اندر
کہیں اگل ہی نہ دے نامہ ءِ عمل یہ زمین

یہ دور کاٹتی عمرِ رواں کو چاٹتی ہے
خلائے ذہن میں آوارہ آج کل یہ زمین

نظامِ شمسی کے گلشن پہ جب بھی آئی بہار
بشر کا تخم لیے گر پڑے گا پھل یہ زمین

چلو کہ زہرہ پہ ڈیرہ جماتے ہیں ابدال
بنی ہمارے لیے خانہ ءِ اجل یہ زمین

عامر ابدال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی