منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے

کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تلا ہے
میں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے

اک زود فراموش کی بے فیض محبت
جاؤں گی گزرتے ہوئے راوی میں بہا کے

اس وقت مجھے عمر رواں درد بہت ہے
تجھ سے میں نمٹتی ہوں ذرا دیر میں آ کے

میں اپنے خد و خال ہی پہچان نہ پائی
گزرا ہے یہاں وقت بڑی دھول اڑا کے

کرتی ہوں تر و تازہ ہری رت کے مناظر
کاغذ پہ کبھی پیڑ کبھی پھول بنا کے

کومل جوئیہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

1 تبصرہ

سائرہ بنگش ستمبر 7, 2025 - 12:14 شام
بہترین انتخاب
Add Comment