اس بات کا خود اسکو

Oplus_131072

اس بات کا خود اسکو بھی ادراک بڑا ہے
معصوم نظر آتا ہے ، چالاک بڑا ہے

سو بار ، بناتے ہوئے توڑا گیا کوزہ
یہ دستِ ہنر مند بھی سفاک بڑا ہے

کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو کچھ ہوتا ہے پھر بھی
بے گھر کے لیے سایہ ء افلاک بڑا ہے

پیمانہ بڑائی کا یہاں پیسہ نہیں ہے
جو خود کو بڑا کہتا ہے کیا خاک بڑا ہے ؟

مجھ چوٹ زدہ کے کوئی نزدیک نہ آئے
ٹوٹا ہوا یہ شیشہ خطرناک بڑا ہے

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا