دریا کی بے رحم موجیں جب زمین کو اپنی گرفت میں لیتی ہیں تو نہ امیر بچتا ہے نہ غریب۔ گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور وزیرآباد کے کنارے آج پھر اجڑے پڑے ہیں۔ وہ کھیت جو کبھی سبز لہلہاتے تھے، آج مٹی اور پانی کا قبرستان ہیں۔ کسانوں کے ڈیرے جو کبھی ہنسی خوشی سے آباد تھے، وہاں اب صرف سناٹا ہے۔ ٹریکٹر، ہل، بیج اور مویشی سب دریا کی نذر ہو گئے۔
وہ کسان جو صبح سورج نکلنے سے پہلے ہل چلانے نکلتے تھے، آج اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ خیموں میں بیٹھے ہیں۔ وہ مائیں جو کبھی چولہے پر تازہ روٹی پکاتی تھیں، آج راشن کے ایک تھیلے کی منتظر ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جنہیں کل لوگ لکھ پتی کہتے تھے، آج وہی ککھ پتی ہو گئے ہیں۔
بہاول نگر کے کسانوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہاں بھی بارشوں اور سیلاب نے کھیت اجاڑ دیے۔ پہلے ہی مہنگائی نے کمر توڑ رکھی تھی، اب کسان سوچ رہا ہے کہ اگر ٹریکٹر ڈوب گیا تو نیا کہاں سے لائے؟ اگر بیج، کھاد اور ڈیزل خریدنے نکلے تو قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایک طرف کھیت اجڑ گئے، دوسری طرف مہنگائی نے ہاتھ باندھ دیے۔ یہ کیسا نظام ہے جس میں کسان ہی سب سے زیادہ پس رہا ہے؟
سیاست دان آتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ کچے وعدے کسانوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ انہیں ریلیف چاہیے، وہ بھی صرف راشن کے چند تھیلوں کی شکل میں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں۔
کسانوں کو فوری طور پر قرضوں میں رعایت دینی چاہیے۔ جو ٹریکٹر اور زرعی آلات تباہ ہوئے ہیں ان کے لیے سبسڈی پر نئے آلات دیے جائیں۔ بیج اور کھاد سرکاری نرخوں پر فراہم کی جائیں۔ زرعی ڈیزل کی قیمت پر کنٹرول کیا جائے تاکہ کسان دوبارہ ہل چلا سکے۔ ان کے بچوں کے لیے تعلیمی اور صحت کے خیمے لگائے جائیں تاکہ وہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم نہ ہوں۔
یہ سیلاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف وقتی امداد سے مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ مستقل ڈیم، نکاسی کا نظام اور شجر کاری کے بغیر ہر سال یہی مناظر دہرائے جائیں گے۔ کسان ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اگر وہی ٹوٹ گیا تو معیشت کیسے کھڑی ہوگی؟
اب وقت ہے کہ حکمران کچے وعدوں کو چھوڑ کر پکے اقدامات کریں۔ ورنہ سیلاب صرف کھیت ہی نہیں بہائے گا بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل کو بھی بہا لے جائے گا۔
یوسف صدیقی