میرا پہلا کالم 2010 میں شائع ہوا۔ اس زمانے میں اخبارات کی سماجی حیثیت بہت زیادہ تھی۔ جس فرد کا اخبار میں بیان / کالم شائع ہوتا یا تصویر لگتی، وہ خود کو خوش نصیب سمجھتا۔اسی طرح اخبارات کا پیمانہ بھی بہت سخت تھا۔ ہر کسی کی تحریر کو شائع کرنے کا اعزاز نہیں ملتا تھا۔ مدیر کے کمرے میں بیٹھا ایک محتاط قاری ہر لفظ کو پرکھتا اور اس کے بعد ہی صفحہ اشاعت تک رسائی ملتی۔ یہی سختی دراصل اخبار کو وقار بخشتی تھی اور قاری کو یقین دلاتی تھی کہ جو کچھ چھپ رہا ہے، وہ سوچ سمجھ کر شائع ہوا ہے۔
لیکن آج، محض پندرہ برس کے قلیل عرصے میں یہ منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اخبارات جنہیں رائے سازی، فکری قیادت اور خبر کی سب سے معتبر صورت سمجھا جاتا تھا، وہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا ہے جو ایک غیر مرئی سیلاب کی طرح ہر طرف پھیل گیا ہے۔ اب ہر شخص صحافی ہے، ہر قاری مصنف ہے اور ہر تصویر خبر کا روپ دھار سکتی ہے۔
اخبار کا سنہری دور
میری نسل نے اخبارات کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب صبح کا آغاز اخبار کے ساتھ ہوتا تھا۔ چائے کے کپ کے ساتھ اخبار کا انتظار گھروں میں ایک معمول تھا۔ دکانوں پر اخبار بکتا، دفاتر میں میزوں پر سجتا اور گلی کوچوں میں بچے آواز لگاتے: "اخبار! اخبار!”۔ وہ محض خبروں کا ذخیرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہوا کرتا تھا۔
کسی سیاسی لیڈر کا بیان اگر اخبار میں چھپ جائے تو مخالفین کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا چارہ نہ رہتا۔ کسی کالم نگار کی تنقید حکمرانوں کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتی۔ اور اگر کسی مقامی استاد یا شاعر کی تصویر اخبار میں چھپ جاتی تو یہ پورے محلے کے لیے فخر کا باعث ہوتا۔
اخبارات کے سنہری دور میں خبر کی تصدیق کے کئی مراحل ہوتے۔ رپورٹر خبر لاتا، ایڈیٹر اس کی جانچ کرتا، سب ایڈیٹر سرخی بناتا، پروف ریڈر آخری نظر ڈالتا اور پھر جا کر قاری کے ہاتھوں تک رسائی ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ اخبار پر اعتماد کیا جاتا۔
زوال کی ابتدا
لیکن پھر وقت نے رخ بدلا۔ انٹرنیٹ عام ہوا، موبائل فون سب کی دسترس میں آئے اور سوشل میڈیا نے دنیا کو جکڑ لیا۔ پہلے پہل اخبارات نے اسے ایک وقتی لہر سمجھا۔ مدیران کو گمان تھا کہ چند برسوں بعد یہ نیا شوق مدھم ہو جائے گا اور قارئین دوبارہ اخبار کی دنیا میں لوٹ آئیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔
اخبارات کی سست رفتاری ان کے لیے سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔ خبر جو کل صبح اخبار میں چھپنے والی تھی، وہ آج شام ہی فیس بک یا ٹوئٹر پر وائرل ہو جاتی۔ قاری کو کل تک انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اخبارات کے صفحات سکڑتے گئے اور قارئین کے ہاتھوں میں موبائل کی اسکرینیں بڑھتی گئیں۔
سوشل میڈیا کا ابھار
سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اب خبر کے لیے سب ایڈیٹر یا ایڈیٹر کی چھان پھٹک کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ایک عام شہری اگر کسی حادثے کا چشم دید گواہ ہے تو وہ ویڈیو بنا کر فوراً لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ فوری پن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت معیار بھی فراہم کر پائی ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق تو دیا ہے، مگر اس حق کے ساتھ ذمہ داری کا شعور کم ہے۔ یوں افواہیں، جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا بھی اسی رفتار سے پھیلتے ہیں جس رفتار سے سچائی۔
اخبارات اور سوشل میڈیا کا تقابل
اخبارات اور سوشل میڈیا کا موازنہ ایک نسل اور نئی نسل کا فرق ہے۔ اخبار دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے، دلائل دیتا ہے، پس منظر بیان کرتا ہے، اور پھر کسی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ سوشل میڈیا چیخنے چلانے والا نوجوان ہے جو فوری تاثر دیتا ہے اور اگلے لمحے نئی بات پر آگے بڑھ جاتا ہے۔
اخبار میں ایک خبر کی عمر کم از کم چوبیس گھنٹے ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر خبر کی زندگی چند منٹ سے زیادہ نہیں۔ اخبار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جب کہ سوشل میڈیا اسے لمحاتی جذبات میں بہا لے جاتا ہے۔
کالم نگاری کا بدلتا ہوا منظر
پہلے کالم نگار کا کالم ہفتے یا مہینے بھر تک زیر بحث رہتا تھا۔ قاری خط لکھتے، مدیر کے صفحے پر بحث ہوتی اور پھر آہستہ آہستہ رائے بنائی جاتی۔ آج کالم کی جگہ سوشل میڈیا پوسٹ نے لے لی ہے۔ چند لمحوں میں ہزاروں لائکس اور کمنٹس آ جاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی وہ تحریر اگلی پوسٹوں کے ڈھیر تلے دب جاتی ہے۔
کالم نگاری کا وقار بھی اسی رفتار سے متاثر ہوا ہے۔ اب لوگ طویل تجزیے کے بجائے چھوٹے کلپ یا مختصر ویڈیو کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اخبار میں چھپنے والی تحریر کا وزن اور اثر آج بھی زیادہ ہے۔
مستقبل کی سمت
سوال یہ ہے کہ کیا اخبارات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ اخبار ایک روایت ہے، ایک دستاویز ہے اور ایک معتبر حوالہ ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اخبارات کو اپنی شکل اور حکمت عملی بدلنی پڑے گی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنانا ہو گا، سوشل میڈیا کے ساتھ انضمام پیدا کرنا ہوگا اور اپنے قارئین کو وہ اعتماد دوبارہ دینا ہوگا جو کبھی اخبار کی پہچان تھا۔
ممکن ہے اخبار کا کاغذی وجود سکڑ جائے لیکن اس کی روح، یعنی معتبر خبر اور متوازن تجزیہ، ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہی وہ چیز ہے جو سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتا۔
حرفِ آخر
اخبارات کے زوال اور سوشل میڈیا کے ابھار کا یہ سفر دراصل وقت کی رفتار کا بیان ہے۔ ہم اس کو روک نہیں سکتے لیکن اسے بہتر سمت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری کو معلومات کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کریں مگر ساتھ ہی اخبار کے وقار اور تصدیق کی روایت کو زندہ رکھیں۔
میری نظر میں اخبار اور سوشل میڈیا دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ایک روایت کی علامت ہے تو دوسرا تبدیلی کی۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم روایت اور تبدیلی کو ایک ساتھ ملا کر آگے بڑھیں۔
یوسف صدیقی