مانا کہ کوئی کام بھی اچھا نہیں کیا

مانا کہ کوئی کام بھی اچھا نہیں کیا
لیکن تمہارے پیار کو رسوا نہیں کیا

مشکل پڑی تو آپ ہی نیلام چڑھ گئے
ہم نے پُرائی چیز کا سودا نہیں کیا

یاروں کا ہم سے ایک ہی شکوہ رہا سدا
ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا

قصے میں جھوٹ سچ کی آمیزش تو کی مگر
تجھ سے تو یار کوئی بھی دھوکا نہیں کیا

چپ چاپ اپنی پیاس کے صحرا میں کھو گئے
دریا کے سامنے تو تماشا نہیں

ہم نے تو دوریوں سے بھی لذت کشید کی
اے حسنِ یار تجھ سے تقاضا نہیں کیا

ہم لوگ منظروں کی طرح عام ہو گئے
تُو نے تو اپنا راز ہی افشا نہیں کیا

افتخار شاہد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان