ملاح ڈر نہ جائیں روانی کو دیکھ کر

ملاح ڈر نہ جائیں روانی کو دیکھ کر
میں کشتیاں بناؤں گا پانی کو دیکھ کر

چہرہ فروش لوگ بھی مٹی کے ہو گئے
اوقات بھولتے ہیں جوانی کو دیکھ کر

سوکھے پڑے گلاب کے پھولوں کی اک لڑی
وہ یاد آ گئے ہیں نشانی کو دیکھ کر

لہجہ بگاڑ کر جہاں آواز دی گئی
کردار کپکپائے کہانی کو دیکھ کر

تصویر اس کے ساتھ احامر کی دیکھ کے
جلتے ہیں دوست یاد پرانی کو دیکھ کر

رانا عثمان احامر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے