لوٹ کر آۓ نہیں چھوڑ کے

لوٹ کر آۓ نہیں چھوڑ کے جانے والے
رہ گئے نظریں سرِ راہ ٹکانے والے

روز آ جاتے ہیں کچھ حرفِ تسلی لے کر
زخم بھرنے نہیں دیتے ہیں زمانے والے

جانے والے تو ہر اک حال سے آزاد ہوۓ
یادِ ماضی کی قفس میں ہیں نبھانے والے

کیوں دلاتے ہیں مجھے رفتگاں کی یاد سبھی
گھر یہ کمرے ہیں مرا درد بڑھانے والے

ایسی دوری ہے کہ امید نہیں آس نہیں
دور جو ہو گئے وہ اب نہیں آنے والے

اب تُو کس طور سکوں دے گا خدایا مجھ کو
آتشِ غم سے مرے دل کو جلانے والے

ایمان ندیم ملک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے