دنیا کے ہر حصار سے آگے

دنیا کے ہر حصار سے آگے کہیں پہ ہوں
میں اب ترے شمار سے آگے کہیں پہ ہوں

اے زندگی تُو مجھ کو نہیں گھیر پاۓ گی
میں تیرے ہر مدار سے آگے کہیں پہ ہوں

یہ طور اور یہ تیر تُو اپنے سنبھال ، میں
اب تیرے اختیار سے آگے کہیں پہ ہوں

دل کی شکستگی کا میں شکوہ کروں تو کیوں
میں اس رہِ فگار سے آگے کہیں پہ ہوں

گھائل رہو گے جامِ نظر سے میری سدا
میں عارضی خمار سے آگے کہیں پہ ہوں

قربت تیری کے محل سے پیچھے ہی ہوں کہیں
اور اپنے میں مزار سے آگے کہیں پہ ہوں

طے کر نہیں سکی ابھی راہِ فرار ہجر
لیکن تیری پکار سے آگے کہیں پہ ہوں

ایمان ندیم ملک

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا