لوگ تَو شہر کی سڑکوں پہ سُلائے گئے ہیں

لوگ تَو شہر کی سڑکوں پہ سُلائے گئے ہیں
اور ایوانوں میں کچھ پُتلے سجائے گئے ہیں

وقت نے شاہ بھی نادار بنائے اکثر
ایسے نادار کہ جوتوں پہ بٹھائے گئے ہیں

ہمیں معلوم تری بزم کے سارے آداب
ایک مدّت تری دہلیز تک آئے گئے ہیں

یہ ہوس زاد نہ گلیوں میں نکل آئیں کہیں
اِس لیے حُسن کے بازار بنائے گئے ہیں

لوگ پھولوں کا بدن نوچنے آتے ہیں سمیرؔ
سو حفاظت کے لیے خار اُگائے گئے ہیں

سمیرؔ شمس

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا