ہمارے ظرف کے جتنا کوئی وبال تَو ہَو

ہمارے ظرف کے جتنا کوئی وبال تَو ہَو
کوئی بھی درد ہَو پر درد میں کمال تَو ہَو

ہمارے شوقِ محبّت کی بات چھوڑو میاں
تمھاری دھڑکنوں میں بھی کوئی اُبال تَو ہَو

ہمیشہ وصل کی راتیں مزہ نہیں دیتیں
عروج ایسا ہَو جس کو کبھی زوال تَو ہَو

پھر اِس کے بعد غمِ ہجر بھی سکھاؤں گا
تُو میری چاہتوں سے پہلے کُچھ نہال تَو ہَو

سمیرؔ چارہ گری میں اُسے مہارت ہے
ہمارے دل کو مگر شوقِ اندمال تَو ہَو

سمیرؔ شمس

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے