لطیف جزبوں سے مہکی

لطیف جزبوں سے مہکی ہوئی قبا پہنو
پرانے رنگ اتارو, کوئی نیا پہنو

قدیم حرف دعا گو ہیں کچھ نیا لکھو
جدید دھنکی لغت کا بنا ہوا پہنو

اصیل , ہاتھ کا کھدر پڑا ہے کھادی پر
ہٹا کے ریشمی ملبوس , یہ چغا پہنو

تمھیں یہ لفظوں کی اترن ملی ہے ورثے میں
ولی کا میر و اسد کا دیا ہوا پہنو

فرح گوندل

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے