یہ شہر کافر ہے یاں بہت

یہ شہر کافر ہے یاں بہت ہے ریا کا چرچا
ابھی مضافات تک نہیں اس وبا کا چرچا

سنائی دیتا ہے آسمانوں سے مجھکو اکثر
جو میں نے مانگی تلک نہیں اس دعا کا چرچا

کبھی ملیں گے تو اسکو اچھےسےجان لیں گے
ابھی تو واعظ سے سن رہے ہیں خدا کا چرچا

سنا ہے شہروں میں ایک شہر طلسم بھی ہے
سنا ہے اچھا نہیں وہاں کی ہوا کا چرچا

بتأؤ کیسے ہوا ہے تم کو مرا تعارف ؟
بتاؤ کس رنگ میں ہے مجھ بے نوا کا چرچا ؟

ابھی تو پہلا دیا ہی دیوار پر رکھا اور
سنائی دینے لگا ہے مجھکو , ہوا کا چرچا

فرح گوندل

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی