کون بدلے گا تغزل کی فضا میرے بعد

کون بدلے گا تغزل کی فضا میرے بعد
کون آندھی میں جلائے گا دیا میرے بعد

مجھ سے بہتر تو ہوئے شعلہ نوا میرے بعد
میرے جیسا نہ کوئی اور ہوا میرے بعد

کون ہونٹوں سے کرئے گا تری راہوں کو سلام
کون چومے گا یہ نقشِ کفِ پا میرے بعد

کون بن جائے گا مہتابِ برہنہ پہ گھٹا
کون ڈھانپے گا تجھے مثلِ قبا میرے بعد

کون سمجھے گا تجھے اپنے سخن کا الہام
کون دے گا تجھے تعظیمِ حرا میرے بعد

فیصلہ لکھ کے قلم توڑ دیا منصف نے
پھر محبت کی نہ دی کوئی سزا میرے بعد

ہاتھ پھیلا کہ یہی وقت مناسب ہے عدیم
کیا کرئے گی ترے ہونٹوں کی دعا میرے بعد

عدیم ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے