میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک

میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک
اب آ گئی ہے بات ترے اختیار تک

کس نے کہا تھا اتنی محبت کے واسطے
تُو نے تو چھُو لیا ہے دلِ بے قرار تک

تُو آج آ، کہ موت کے بعد آ، یہ تُجھ پہ ہے
آنکھیں مری کھلی ہیں ترے انتظار تک

منسوب ہو گئے تری آنکھوں کے کیف سے
چڑھتے نشے سے لے کے اُترتے خمار تک

رخصت کے بعد کا بھی سماں ختم ہو چکا
باقی نہیں ہے اب تو ہوا میں غبار تک

تیری تمام وعدہ خلافی کے باوجود
میں نے تو کر لیا ہے ترا اعتبار تک

وعدے جو ٹوٹتے ہیں، وہ قسمت میں ہیں عدیم
لکھے ہوئے ہیں بخت میں قول و قرار تک

عدیم ہاشمی 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا