کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے

کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے

اک رفاقت میں کہاں عمر گزر سکتی ہے

تجھ سے کچھ اور تعلق بھی ضروری ہے مرا

یہ محبت تو کسی وقت بھی مر سکتی ہے

میری خواہش ہے کہ پھولوں سے تجھے فتح کروں

ورنہ یہ کام تو تلوار بھی کر سکتی ہے

ہو اگر موج میں ہم جیسا کوئی اندھا فقیر

ایک سکے سے بھی تقدیر سنور سکتی ہے

صبح دم سرخ اجالا ہے کھلے پانی میں

چاند کی لاش کہیں سے بھی ابھر سکتی ہے

اظہر فراغ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے