کوئی اک خوشی بھی نہ مل سکی

میری جاں
شہر وجود میں
ابھی قریہ قریہ ملال ہے
تیرے ہجر کا
تیرا نام خواب کی راکھ سے ہے اٹا ہوا
تیرا درد روح کی طاق پر ہے دھرا ہوا
کسی رائیگانیِ وقت کا
کوئی اندمال تھا دل کی زرد ڈھلان پر
جو نہ سو سکا لب خواب آنکھ کی سیج پر
لب تشنہ تجھ کو نہ پا سکے
تجھے اپنے دل کی ہتھیلیوں میں سمیٹنے کی جو آرزو تھی نہ کھل سکی
مجھے اتنی صدیوں کے بعد بھی
کوئی اک خوشی بھی نہ مل سکی

عدیم ہاشمی 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا