تیری تصویر

تیری تصویر
سکھ انگیز سویرا تیرا
کومل شام تیری
پنچھی تیری اپنی دنیا
ہر رستہ، ہر خوشبو، موسم
سب تیرے ساماں
نہ تو اپنے دکھ کا قیدی
نہ رت کا اور سمتوں کا زندان
درد سے انجان ہے
سردی، گرمی آنکھ مچولی
پت جھڑ اک سنگیت
اڑ جانے کا گیت
دور سمندر پار کی نگری
سب تیری جاگیر
میں اک دکھ کا مارا راہی
جنم جنم سے دیکھ رہا ہوں
آوارہ پنچھی کی دنیا
اور تیری تصویر
جیون کی تفسیر

عدیم ہاشمی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا