کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں

کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں
فرش ہے مخمل و کمخواب ترے کوچے میں

دولتِ حسن یہاں تک تو لٹائی ظالم
اشک ہے گوہرِ نایاب ترے کوچے میں

جوششِ گریۂ عشاق سے اک دم میں ہوا
شجرِ سوختہ، شاداب ترے کوچے میں

ہوش کا پاؤں جو یاں آ کے پھسل جاتا ہے
کیا لنڈھائی ہے مئے ناب ترے کوچے میں

ہے کفِ پائے عدو، پا سے ترے رنگیں تر
بس کہ ہم روتے ہیں خوناب ترے کوچے میں

گوشہ گیری سے بھی گردش نہ گئ طالع کی
پھرتے ہیں صورتِ دولاب ترے کوچے میں

غیر نے سنگ جو پھینکے وہ ہوئے بالشِ سر
چین سے کرتے ہیں ہم خواب ترے کوچے میں

وہ بھی محروم نہیں جن کو نہیں بزم میں بار
تیرے رخسار کی ہے تاب ترے کوچے میں

چل دیا شیفتہ سودے میں خدا جانے کہاں
ڈھونڈتے پھرتے ہیں احباب ترے کوچے میں

مصطفیٰ خان شیفتہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے