کرچیں

ٹکڑا اک نظم کا

دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا

لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی

دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے

نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا

کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے

ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا

 

گلزار

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا